بھٹکل 16/اکتوبر(ایس ا و نیوز) پچھلے دنوں جالی پٹن پنچایت کے صدراور نائب صدر کے انتخابات میں تنظیم کی حمایت والے امیدوار کی ناکامی سے جو تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے اس میں ایم ایل اے منکال وئیدیا کا نام بھی اچھل رہا تھا کہ انہوں نے تنظیم کے اتحاد کو توڑنے کے لئے تنظیم کے حمایت یافتہ امیدوار کو شکست دینے کی سازش رچی اور تنظیم کی ہی حمایت سے رکن بننے والے ایک دوسرے امیدوار کو میدان میں اتار کر اسے بی جے پی اراکین کے تعاون اور تنظیم کی حمایت سے کامیاب ہونے والے دو ایک اراکین کی بغاوت سے کامیاب کروایا۔اس طرح تنظیم کی حمایت سے کامیاب ہونے والے 11اراکین کی اکثریت جالی پٹن پنچایت میں موجود ہونے کے باوجودصدر اور نائب صدر کے انتخابات میں تنظیم کے مجوزہ امیدوارکو شرمناک شکست کا سامناکرناپڑا۔اس بات کو لے کر عوام میں بڑی ناراضی پیدا ہوگئی اور اس شکست کے لئے مختلف اسباب اور اشخاص کا ذکر ہونے لگا۔
لہٰذااس مسئلہ کی تحقیقات کے لئے مجلس اصلاح و تنظیم کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ اسی ضمن میں مولانا سید زبیر، ارشاد گوائی وغیرہ پر مشتمل اس کمیٹی نے ایم ایل سے ملاقات کی اور اس مسئلے پر ان سے حقائق جاننے کی کوشش کی۔ اس موقع پر مبینہ طور پر منکال وئیدیا نے صدارت کے لئے کانگریس پارٹی کی طرف سے باغی امیدوارعبدالرحیم کی حمایت کرنے کی بات قبول کی ہے۔انہوں نے کہاکہ فی الحال تنظیم میں جنتا دل (ایس) کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری کے فیصلے منظور ہوتے ہیں۔ اور تنظیم کے نام پر جے ڈی ایس کے امیدواروں کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ تعلقہ اور ضلع پنچایت انتخابات میں جے ڈی ایس صدر عنایت اللہ شاہ بندری نے تعلقہ کے مختلف مقامات پر کانگریس امیدواروں کے خلاف جے ڈی ایس کے امیدواروں کو میدان میں اتارا تھا جس سے کئی جگہوں پر کانگریس پارٹی کو نقصان پہنچا۔منکال نے پوچھا کہ اگر وہ ایسا کرتے چلے جائیں گے تو پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
مبینہ طور پر ایم ایل اے نے مزید کہا کہ جالی پٹن پنچایت کے انتخاب میں بھی جے ڈی ایس کے صدر عنایت اللہ شاہ بندری ہی اکھاڑے میں اترے تھے، تب آپ کے خیال میں ہمیں کس کے خلاف داؤ پیچ آزمانا چاہیے تھا؟ پھر انہوں نے کہا کہ میں نے یہ بات تنظیم کے صدر کے علم میں لائی ہے اور اسی وجہ سے میں نے کانگریسی امیدوار کو میدان میں اتارا اور جے ڈی ایس صدر عنایت اللہ شاہ بندری کے حمایت کردہ امیدوار کو ہرایا ہے۔ پھر انہوں نے واضح الفاظ میں یہ بھی کہا کہ میں تنظیم کا بے حد احترام کرتا ہوں اور ترقی کے کاموں میں اس کے ساتھ ہاتھ بٹانے کو ہمیشہ تیار ہوں۔میں تنظیم مخالف نہیں ہوں۔سیاسی طور پر تنظیم کی ہتک کرنے کا میرا کوئی مقصد نہیں ہے۔ لیکن جب پارٹی کی سیاست ہوگی تو پھر مجھے کانگریس کے ساتھ کھڑے ہونے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔اور جے ڈی ایس کے لیڈروں کا ساتھ دینا میرے لئے ممکن نہیں ہے۔ان سے ملاقات کرنے والے تنظیم کے نمائندوں سے انہوں نے اپیل بھی کہ تنظیم کو پارٹی سیاست سے پاک بنیاد پر مستحکم کیا جائے۔
دیکھنا یہ ہے کہ مختلف لوگوں سے ملاقات کرنے اور حالات کا تجزیہ کرنے کے بعد تحقیقاتی کمیٹی مجلس انتظامیہ کو جو رپورٹ پیش کر تی ہے، اس کی بنیاد پر مجلس اصلاح و تنظیم کا اگلا قدم کیا ہوتا ہے اور آئندہ کے لئے کیا لائحہ عمل وضع کیاجاتا ہے۔